مجھے کیوں جلایا؟
میں کبھی اپنے فولادی جسم پر فخر کرتی تھی۔آج میرا آہنی وجود راکھ کا ڈھیر نظر آتا ہے۔آج فیض آباد کے مقام پر میری برہنہ لاش آتے جاتے لوگوں کی حقارت سے بھری نظروں کا نشانہ ہے۔ہر آنے جانے والا میرے جلے ہوئے دروازے کو لات مارکر گویا اپنا فرض ادا کررہا ہے۔
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی
مانا میری موجودہ حالت ایسی ہے کہ کوئی مجھے دیکھ کر میرے ماضی کا اندازہ نہیں لگا سکتا لیکن جب دوہزار دس میں میں پاکستان آئی تو میرا چمچماتا حسن دیکھ کر سب دنگ رہ جاتے تھے۔میں دوہزاردس میں سماء ٹی وی کی ٹیم کا حصہ بنی اور اس کے بعد سے عوام کو پل پل کی خبروں سے آگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھ لیا۔موسم کی صورتحال ہو یا پل پل بدلتا سیاسی موسم،میں نے عوام کو ہرلمحے کی خبر دی۔ کبھی بارہ ربیع الاول کے جلوسوں کے آگے آگے چل کرخوش الحان نعت خوانوں کی آوازیں اپنے ناظرین کی سماعتوں تک پہنچائیں تو کبھی محرم کے جلوسوں میں پرسوز نوحہ خوانوں کے نوحے آن ائیر کیے۔
کبھی انتخابات کے دوران ووٹروں کا جوش و خروش دکھایا تو کبھی موسم کی پہلی بارش اور برفباری سے لطف اندوز ہوتے شہریوں کی آنکھوں کی خوشگوار چمک کو اجاگر کیا۔میں نےبم دھماکوں میں زخمی اور شہید ہونے والوں کی آہیں بھی سنی اور معصوم مقتولوں کی لاشوں پر ان کی ماؤں کے بین بھی سنائیں۔ میں اپنے بھائیوں سے بچھڑنے والی بہنوں کی دل سے اٹھتا دھواں بھی دیکھ لیتی تھی۔میری آنکھیں بہت دور تک مار کرتی تھیں۔میری آواز کی گونج دور دور تک سنائی دیتی تھی۔ میری نگاہ سب سے بلند، میری صدا سب سے اونچی تھی۔میں جب تک تھی میرا کام لوگوں کو آگہی فراہم کرنا تھا مگرگزشتہ دنوں اسلام آبادمیں فیض آبادکےمقام پرجومیرے ساتھ ہوااس کا تصور بھی کبھی نہیں تھا۔25نومبر کو میں حسب معمول اپنے کام میں مصروف تھی کہ فیض آباد میں ایک مشتعل ہجوم نعرہ لگاتا ہوا مجھ پر حملہ آور ہوگیا۔میرا ڈرائیور اور دیگر عملہ بمشکل اپنی جان بچا کر نکلا۔ پہلے ڈنڈوں سے وار کرکے مجھے شدید زخمی کیا۔اندر پڑا لیپ ٹاپ اور دیگر قیمتیں چیزیں نکالیں اور پھر مجھے نذر آتش کردیا۔پل بھر میں بلند ہوتے شعلوں نے مجھے راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔اب میں مری روڈ پر دیگر جلی ہوئی گاڑیوں کے ساتھ ایک بدنما داغ کی طرح پڑی ہوں۔ ہرآنے جانے والا مجھے حقارت سے دیکھ کرگزر جاتا ہے۔اکثر دل جلے تو آتے جاتے میری جلی ہوئی میت کو ٹھوکر مارنا بھی ضروری خیال کرتے ہیں لیکن میں اب تک صرف یہی سوچ رہی ہوں کہ آخر میرا قصور کیا تھا،
یہی کہا تھا میری آنکھ دیکھ سکتی ہے
تو مجھ پہ ٹوٹ پڑا سارا شہر نابینا

EmoticonEmoticon