کیا خطرہ ٹل گیا؟
قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے بل کو منظور نہ کراکر ن لیگ نے وقتی طور پر فتح اپنے نام کرلی ہے۔ اپوزیشن کے 98 کے مقابلے میں حکومت نے 163 ووٹ لیکر نواز شریف کو پارلیمانی محاذ پر بچالیا ہے۔ نواز شریف نے ساتھ دینے پر ساتھیوں کا نہ صرف شکریہ ادا کیا بلکہ انہیں شاباش بھی دی جوووٹنگ والے دن غیرحاضر رہے ان کی ’مجبوریوں‘ کو بھی قابل قبول گردانا۔
آئینی جنگ جیتنے کے بعد میاں صاحب کا انداز اب اور جارحانہ ہوگیا ہے ۔ عوام کے جذبات ابھار کرملک کے بڑے ادارے پر تنقید کے نشتر مزید برسائے جارہےہیں ۔ انہیں سیاسی رفیقوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ نااہلی کیس میں ان کے ساتھ جو زیادتی ہوئی اس کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے،اسی لئے جہاں بھی
موقع ملتا ہے وہ عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہےہیں۔
اپوزیشن کو گمان ہے کہ نواز شریف عوام کا اعتماد کھوچکےہیں مگر میاں صاحب کو یقین ہےکہ وہ ہر نئے دن کے ساتھ مقبول سے مقبول تر ہوتےجارہےہیں لیکن حقیقت حال یہی ہےکہ ن لیگ کی یہ سرکارجتنی کمزور ہے،اتنی شایدکبھی تاریخ میں اپاہج جمہوری حکومت نہیں گزری۔ دھرنا دینے والوں کے سامنے بے بسی ہویاعدالت سےمفرورقراردیئےجانے والے اپنی کابینہ کے اسحاق ڈارکو ہٹانے میں تردد، وزیراعظم اس پوزیشن میں نہیں کہ انہیں ہٹا سکیں جبکہ نواز شریف کو خطرہ ہے کہ ڈار حدیبیہ پیپرملز میں ماضی کا اعترافی بیان قبول کرتے ہوئے نیا اعترافی بیان نہ دے دیں۔اسی لئے مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ڈارصاحب کابینہ سے مائنس بھی ہیں اور کابینہ کا حصہ بھی۔ علاج کی غرض سے گئے وزیراعظم کا سمدھی بھلے ذمہ داری ادا کرنے سے قاصرہوں مگرمراعات اور پروٹوکول تو وفاقی وزیر کے برابر لیتے رہیں گے۔
میاں صاحب کی آنکھوں کی چمک سے یہ بات عیاں ہے کہ شق203 میں ترمیم منظور نہ کراکر ن لیگ نے پارٹی صدارت کیلئے نہ صرف قانونی دروازے بند کردیئے ہیں بلکہ پارٹی کے اندر پھوٹ کے تاثر کو بھی رد کردیا ہے۔ ن لیگ کے کچھ رہنما تو یہ سوال بھی پوچھتے پھررہےہیں کہ کہاں گئے وہ 70 اراکین، جن پر بغاوت کا الزام لگایا جارہا تھا؟
نواز شریف جیت کی خوشی سے سرشار ضرور ہیں تاہم اب بھی ایک موہوم فکر ہے جو انہیں مسلسل ستا رہی ہے۔ ان کی ہر مسکراہٹ میں پیوند نظر آرہےہیں جبکہ ہر قہقہے کے پیچھے غم کے سانپ پھنکار رہے ہیں کیونکہ جس بلا سے وہ جان چھڑانا چاہتےہیں وہ بلا ابھی ٹلی نہیں۔ نااہلی کی دو دھاری تلوار اب بھی برابر لٹکی ہوئی ہے ۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی، شیخ رشید اور جمشید دستی کی درخواستیں سماعت کیلئے منظور کررکھی ہیں۔ عدالت سے نااہل شخص پارٹی صدر کیسے بن سکتا ہے؟ اس معاملے کا جائزہ اب عدالت لے گی۔
قومی اسمبلی میں مات کھانے کے بعد جیالوں کی جماعت کا سردار بھی کافی جارحانہ اندازاپنائے ہوئے ہیں۔ یہاں محبت کی صدائیں ہیں تو وہاں بے رخی کی ادائیں ، میاں صاحب ہیں کہ تعاون کیلئے ہاتھ بڑھائے جارہےہیں زرداری صاحب ہیں کہ مسلسل ان کا ہاتھ جھٹک رہےہیں اور شاید میاں صاحب کی یہ کوششیں کبھی کارگر بھی نہیں ہونگی۔
اب جبکہ انتخابات میں محض نو ماہ رہ گئے ہیں تو جیالوں کا سردار اب اتنا بھی مفاہمت پسند نہیں کہ پوائنٹ اسکورنگ کا کوئی موقع ضائع کرے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کو سیاسی مشیروں نے سمجھایا ہے کہ حضور فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے کافی سنے اب اسی داغ کو دھونے کا لمحہ آن پہنچا ہے۔ آخر عوام کے پاس بھی تو جانا ہے۔
زرداری صاحب کی بے رخی میں کچھ ذاتی گلے شکوں کا رنگ بھی نمایاں ہے جس کے باعث مفاہمت کے جادوگر نے ن لیگ کیلئے بلاول ہاؤس کے دروازوں پر تالے ڈال رکھے ہیں اور صاف بتادیا ہے کہ ’’میاں صاحب سے ہاتھ ملانا خارج از امکان ہے۔ نواز شریف کو صرف اپنی ذات کیلئے میثاق جمہوریت یاد آجاتا ہے‘‘۔ گرینڈ ڈائیلاگ کا معاملہ ہو یا پارلیمنٹری اورعدالتی محاذ پر ن لیگ کیلئے مشکلات پیدا کرنا، پیپلزپارٹی کی خوئے دلربائی کے قصے کب کے تمام ہوچکے ، چھوٹے اور بڑے بھائی کے زمانے کب کے لد چکے۔ اب سب کو اپنی اپنی فکر ہے۔
میاں صاحب اسی در سے کوئی امید ہی نہ رکھیں تو اچھا ہےکیونکہ یہاں بیل منڈھے نہیں چڑھنے والی۔ انا کے نرگسی خول میں رہنے والے طلسماتی خیالوں میں مگن رہے تو ٹھیک ہے کیونکہ اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئےگا۔ فیصلے کی گھڑٰی سرپر کھڑی ہے۔ کس نے کیا کھویا کیا پایا؟َ اگر انتخابات بروقت ہوئے (جوفی الحال بعید از قیاس ہے) تو عوام تمام سیاسی جماعتوں کو آئینہ ہاتھ میں تھما دیں گے۔
ن لیگی شیر اپنے قائد کا تاج بچانے پر خوشیاں ضرورمنائیں لیکن ذرا خیال رہے کہ گردش دوراں ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دکھ کے راستے مسدود نہیں ہوئے۔ مصیبتوں نے ابھی میاں صاحب کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز، حدیبیہ پیپرملزکا ڈراؤنا قضیہ، اپنی جماعت کے اندر روٹھے ہوؤں کو رام کرنا اور سیاسی محاذ پر مختلف قوتوں سے

EmoticonEmoticon