Showing posts with label 12ربیع الاول ۔۔۔رسول رحمت ﷺ کا جشن ولادت. Show all posts
Showing posts with label 12ربیع الاول ۔۔۔رسول رحمت ﷺ کا جشن ولادت. Show all posts
جیل میں ملاقات کے لئے آئی محبوبہ کے بوسے سے قیدی جان کی بازی ہار گیا، ایسا واقعہ کہ پولیس نے بھی تصور نہ کیا تھا کہ ایسا بھی ممکن ہے

جیل میں ملاقات کے لئے آئی محبوبہ کے بوسے سے قیدی جان کی بازی ہار گیا، ایسا واقعہ کہ پولیس نے بھی تصور نہ کیا تھا کہ ایسا بھی ممکن ہے

جیل میں ملاقات کے لئے آئی محبوبہ کے بوسے سے قیدی جان کی بازی ہار گیا، ایسا واقعہ کہ پولیس نے بھی تصور نہ کیا تھا کہ ایسا بھی ممکن ہے



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں ایک لڑکی اپنے جیل میں قید بوائے فرینڈ سے ملاقات کے لیے گئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کو طویل بوسہ دیا اور اس بوسے کی وجہ سے قیدی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آ گیا کہ کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق میلیسااین بلیئر نامی یہ لڑکی اپنے محبوب انتھونی پوویل سے ملاقات کرنے امریکی ریاست اوریگن کی ایک جیل میں گئی جہاں ملاقات کے آخر میں دونوں نے ایک دوسرے کا بوسہ لیا۔درحقیقت میلیسا اپنے منہ میں نشہ آور دوا ’میتھاڈرین ‘ کی 7پوٹلیاں رکھ کر آئی تھی جو بوسے کی آڑ میں
وہ انتھونی کے منہ میں منتقل کر رہی۔ انتھونی نے یہ پوٹلیاں اپنے معدے میں اتار لی لیکن اس کی بدقسمتی کہ اس کے پیٹ میں دو پوٹلیاں پھٹ گئی اور اس کی موت واقع ہو گئی۔ 41سالہ انتھونی ایک شخص کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ یہ واقعہ گزشتہ سال پیش آیا تھا جس کے بعد میلیسا کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اب اسے 2سال قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
وہ گاؤں جہاں لوگوں نے قبرستان میں قبریں کھول کر مردے باہر نکال ڈالے، لیکن کیوں؟ وجہ جان کر آپ بھی کانپ اٹھیں گے

وہ گاؤں جہاں لوگوں نے قبرستان میں قبریں کھول کر مردے باہر نکال ڈالے، لیکن کیوں؟ وجہ جان کر آپ بھی کانپ اٹھیں گے

وہ گاؤں جہاں لوگوں نے قبرستان میں قبریں کھول کر مردے باہر نکال ڈالے، لیکن کیوں؟ وجہ جان کر آپ بھی کانپ اٹھیں گے




کیپ ٹاؤن (مانیترنگ ڈیسک)کسی ذی ہوش انسان کے لئے انسانی گوشت کھانے کا تصور ہی دل دہلا دینے والا ہے لیکن جنوبی افریقہ کے ایک گاؤں کے باسیوں پر نجانے کیسا جنون سوار ہوا کہ انہوں نے صرف زندہ ہی نہیں بلکہ مرے ہوئے انسانوں کو بھی قبروں سے نکال کر ان کا گوشت کھانا شروع کر دیا. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ایسیگوڈل وینی گاؤں کے سینکڑوں افراد یہ بھیانک کام ایک عرصے سے کر رہے تھے. ان کی حیوانیت کا انکشاف اس وقت سامنے آیا جب ان میں سے ایک دیہاتی آدم خوری سے اکتا کر پولیس کے پاس گیا اور ان سے کہنے لگا ”اب مجھے انسانی گوشت کھانے میں مزہ نہیں آتا. میں یہ کام مزید جاری نہیں رکھ سکتا. میں مردہ گوشت کھا کھا کر تھک چکا ہوں.“ اس نے کٹی ہوئی انسانی ٹانگ اور ہاتھ بھی اہلکاروں کے حوالے کیا. پولیس نے جب اس شخص کے گھر کی تلاشی لی تو ایک کمرے سے مزید انسانی اعضاءبھی برآمد ہوئے. اسی طرح ایک اور مکان سے کٹے ہوئے آٹھ انسانی کان اور دیگر اعضاءبرآمد ہوئے.جب اس معاملے کی مزید تحقیق کی گئیتو معلوم ہوا کہ 971 نفوس پر مشتمل گاؤں میں سے
تقریباً ایک تہائی ایسے تھے جو قبروں سے مردے نکال کر ان کا گوشت کھارہے تھے اور بعض اوقات زندہ انسانوں کو بھی پکڑ کر مار دیتے تھے تا کہ ان کا گوشت کھا سکیں. گرفتار ہونے والوں میں سے تین نوجوانوں نے بتایا کہ انہوں نے چند دن پہلے ایک خاتون کو اغواءکرنے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا، اور پھر اس کے جسم کے ٹکڑے کئے اور اس کا گوشت پکا کر کھا لیا تھا.لرزہ خیز انکشافات سامنے آنے کے بعد پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضاءہے. پولیس اس معاملے کی مزید تحقیق کر رہی ہے، لیکن تاحال یہ کہنا مشکل ہے کہ گاؤں والے اب تک کتنے زندہ یا مردہ انسانوں کا گوشت کھا چکے ہیں.
بیٹھے بیٹھے موت پا جانے والے اس شخص کی لاش 75سال بعد نکالی گئی ۔۔ سائنسدانوں نے جب اسے ہاتھ لگایا تو حیرت سے اچھل پڑے ۔۔ ایساخوفناک انکشاف جو ا�

بیٹھے بیٹھے موت پا جانے والے اس شخص کی لاش 75سال بعد نکالی گئی ۔۔ سائنسدانوں نے جب اسے ہاتھ لگایا تو حیرت سے اچھل پڑے ۔۔ ایساخوفناک انکشاف جو ا�

بیٹھے بیٹھے موت پا جانے والے اس شخص کی لاش 75سال بعد نکالی گئی ۔۔ سائنسدانوں نے جب اسے ہاتھ لگایا تو حیرت سے اچھل پڑے ۔۔ ایساخوفناک انکشاف جو ا�




اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)روس میں ایک بدھ راہب کی موت تقریباً 75 سال قبل ہوئی۔ اس نے موت سے قبل اپنے چیلوں کو نصیحت کر دی تھی کہ نصف صدی بعد اس کی لاش کو دوبارہ نکالیں اور دیکھیں وہ کس حال میں ہے۔داشی دورزو ایتی گلوف نامی راہب کی وصیت کے مطابق اس کی لاش کو دیودار کی لکڑی سے بنے ڈبے کے اندر آلتی پالتی پوزیشن میں بٹھا کر دفن کردیا گیا۔ اگرچہ وصیت کے مطابق اسے 50 سال بعد دوبارہ نکالا جانا تھا لیکن بعدازاں کچھ مذہبی وجوہات کی بناءپر اس کی لاش نکالنے میں 75 سال کا عرصہ گزرگیا، لیکن جب لکڑی کے ڈبے سے لاش نکالی گئی تو ہر کوئی دیکھتا ہی رہ گیا۔ ویب سائٹ وائرل نووا کے مطابق جب 75 سال مکمل ہونے پر ایتی گلوف کی لاش کو نکالا گیا تووہ ابھی بھی اسی طرح آلتی پالتی پوزیشن میں بیٹھا تھا
اور اس کی لاش حیرت انگیز حد تک محفوظ تھی۔ لاش نکالنے والے ماہرین اس کی جلد کو چھو کر سخت حیرت میں مبتلاءتھے کیونکہ یہ اب بھی نرم محسوس ہو رہی تھی۔ بدھ راہب کے چیلوں کا بھی کہنا ہے کہ جب اس کی لاش کو لکڑی کے ڈبے سے نکالا گیا تو وہ اسی طرح آلتی پالتی مارے بیٹھا رہا اور اس کی جلد کا گوشت نرم نظر آتا تھا۔ ایتی گلوف کی لاش کا یہ عجوبہ اب بھی روس کے آئیوول گلیس کائی ڈاسٹن بدھسٹ مندر میں موجود ہے۔ اس لاش کو نکالے ہوئے بھی 15 سال گزرگئے ہیں اور اگرچہ اسے محفوظ کرنے کیلئے کوئی اضافی چیز استعمال نہیں کی گئی لیکن یہ اب بھی کافی اچھی حالت میں ہے۔
کراچی کی رہائشی خاتون نے 63کلو گرام وزنی قرآن حکیم تیار کر لیا ۔۔یہ قرآن حکیم کس چیز پر اور کس چیز سے تیار کیا گیا ہے ؟ جان کر ہر زبان سبحان ال

کراچی کی رہائشی خاتون نے 63کلو گرام وزنی قرآن حکیم تیار کر لیا ۔۔یہ قرآن حکیم کس چیز پر اور کس چیز سے تیار کیا گیا ہے ؟ جان کر ہر زبان سبحان ال

کراچی کی رہائشی خاتون نے 63کلو گرام وزنی قرآن حکیم تیار کر لیا ۔۔یہ قرآن حکیم کس چیز پر اور کس چیز سے تیار کیا گیا ہے ؟ جان کر ہر زبان سبحان ال


جگمگاتا سفید کاٹن کا کپڑا اور اس پر کالے اور سنہرے ریشم سے پروئے گئے نورانی الفاظ . 63کلو وزنی یہ کتاب کوئی عام کتاب نہیں بلکہ کلام ِ مقدس قرآن حکیم فرقان مجید ہے جسے اللہ رب العزت نے اپنے محبوب نبی جناب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر تمام دنیا کی ہدایت کیلئے نازل فرمایا . .یہ مسلمانوں کیلئے سب سے محترم کتاب ہے . تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کی رہائشی کورنگی بلال کالونی کی زمرد خان نے سفید کاٹن کے کپڑے پر کالے اور سنہرے ریشم سے 63کلو وزنی قرآن پاک تیار کیا ہے . زمرد خان کی دن رات کی محنت کے بعد ساڑھے سات سال میں یہ قرآن حکیم تیار ہوا . زمرد کے گھر والے بتاتے ہیں کہ وہ فجر کی نماز پڑھ کے اپنا کام شروع کرتی اور عشا کی کی نماز تک کام جاری رہتا .
زمرد خان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی بڑا کام کرنا چاہتی تھی جس کے بعد اچانک ان کے ذہن میں یہ ایک خیال آیا اور انہوں نے اس پر کام شروع کردیا . 63کلو وزنی اس قرآن حکیم کو 30سپاروں کی صورت میں تخلیق کیا گیا ہے . جگمگاتا سفید کاٹن کا کپڑا اور اس پر کالے اور سنہرے ریشم سے پروئے گئے نورانی الفاظ . 63کلو وزنی یہ کتاب کوئی عام کتاب نہیں بلکہ کلام ِ مقدس قرآن حکیم فرقان مجید ہے جسے اللہ رب العزت نے اپنے محبوب نبی جناب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر تمام دنیا کی ہدایت کیلئے نازل فرمایا . قرآن حکیم سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں .یہ مسلمانوں کیلئے سب سے محترم کتاب ہے . تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کی
12ربیع الاول ۔۔۔رسول رحمت ﷺ کا جشن ولادت

12ربیع الاول ۔۔۔رسول رحمت ﷺ کا جشن ولادت

12ربیع الاول ۔۔۔رسول رحمت ﷺ کا جشن ولادت




ماہ ربیع الاول آتے ہی پوری دنیا کے مسلمان جوش و خروش سے آقاکریم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا اہتمام کرتے ہیں اور میلاد النبی ﷺ کی خوشی مناتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہﷺ کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور محبت رسول ﷺ کی علامت ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے یہ عظیم خوشی کا دن ہے اس دن محسن کائنات ، آقائے کائنات اور فخرِ موجودات حضور نبی کریم ﷺ خاکدانِ گیتی پر جلوہ گر ہوئے آپ ﷺ کی بعثت اتنی عظیم نعمت ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی نعمت نہیں کر سکتی ، آپ قاسم نعمت ہیں ساری نعمتیں آپ ﷺ کے صدقے میں ملتی ہیں جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ 

اِنَما اَنَا قاسِم واللہ ےُعطی''میں بانٹتا ہوں اور اللہ مجھے عطا کرتا ہے '' (بخاری شریف و مسلم شریف ) 

تاریخِ ولادت با سعادت 

چند لوگوں کے ذہن میں یہ بات ہے کہ شاید رسول کریم ﷺ کی ولادت با سعادت بارہ ربیع الاول کو نہیں بلکہ کسی اور دن کو ہوئی تھی تو آئیے آپ کے سامنے چند حوالہ جات پیش کرتا چلوں 

پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ ''ضیا ء النبی '' جلد دوم میں لکھتے ہیں 

''اس میں کوئی شک نہیں کہ محسنِ انسانیت ﷺ کا یومِ ولادت دو شنبہ تھا '' 

مزید علماء محققین لکھتے ہیں 

1۔امام ابنِ جریر طبری جو فقید المثال مورخ ، مفسر اور محدث بھی ہیں وہ لکھتے ہیں 

''رسول کریم ﷺ کی ولادت با سعادت سوموار کے دن ربیع الاول شریف کی بارہ تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی ''(تاریخ طبری جلد دوم ) 

2۔علامہ ابنِ خلدون جو علم تاریخ اور فلسفہ تاریخ میں امام تسلیم کیے جاتے ہیں بلکہ فلسفہ تاریخ کے موجد بھی ہیں وہ لکھتے ہیں 

''رسول کریم ﷺ کی ولادت با سعادت عام الفیل کو بارہ ربیع الاول کو ہوئی نوشیرواں کی حکمرانی کا چالیسواں سال تھا ''(تاریخ ابنِ خلدون ، جلد دوم ) 

3۔مشہور سیرت نگار ابنِ ہشام (متوفی 213ھ)عالم اسلام کے سب سے پہلے سیرت نگار امام ابنِ اسحاق سے اپنی سیرت النبوۃ میں رقم طراز ہیں 

''رسول کریم ﷺ عام الفیل بارہ ربیع الاول کو سوموار کے دن پیدا ہوئے ''(السیرۃ النبوۃ ابنِ ہشام جلد 1 ) 

4۔علامہ ابوالحسن علی بن محمد المادری جو علم سیاست اسلامیہ کے ماہرین میں سے ہیں لکھتے ہیں 

''واقعہ اصحابِ فیل کے پچاس روز بعد اور آپ ﷺ کے والد محترم کے وصال کے بعد حضور نبی کریم ﷺ بروز سوموار بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے '' (اعلام النبوۃ ) 

5۔امام الحافظ ابو الفتح محمد بن عبد اللہ بن محمد بن یحیےٰ بن سید الناس الشافی الاندلسی اپنی سیرت کی کتاب ''العیون الا ثر '' میں تحریر فر ماتے ہیں 

''ہمارے آقا ﷺ اور ہمارے نبی کریم ﷺ بارہ ربیع الاول بروز سوموار عام الفیل میں پیدا ہوئے بعض نے کہا ہے کہ واقعہ فیل کے پچاس روز بعد حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت ہوئی (عیون الاثر جلد اول ) 

6۔علامہ ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ علامہ ابنِ ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں یہ تاریخ روایت کی ہے 

''حضرت جابر اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما دونوں سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ عام الفیل روز دو شنبہ بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک یہی بارہ ربیع الاول ہی مشہور ہے (تاریخ ابنِ کثیر جلد اول ) 

7۔امام محمد ابو زہرہ رضی اللہ عنہ اپنی سیرت کی کتاب ''خاتم النبین ''میں لکھتے ہیں کہ 

''علماء روایت کی ایک عظیم کثرت اس بات پر متفق ہے کہ یومِ میلاد عام الفیل ربیع الاول کی بارہ تاریخ ہی کو ہے '' (خاتم النبین جلد اول ) 

بعض حضرات کہتے ہیں کہ محفل میلاد کی ابتدا ربل کے بادشاہ ابو سعید مظفر نے کی اور یہ شخص بہت بڑا بد بخت ، فاسق و فاجر تھا ابو سعید مظفر کے زمانہ سے پہلے محفل میلاد کا کہیں ذکر نہیں ، کہیں ثبوت نہیں لہذا یہ بدعت ہے 

لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کا بہت بڑا افتراء ہے جس کا اس حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے محافل میلاد ابو سعید ظفر کے زمانہ سے پہلے بھی منعقد ہوتی تھیں جیسا کہ امام عسقلانی نے فرمایا کہ ''اہلِ اسلام ہمیشہ سے میلاد کے مہینہ میں محفل میلاد کا انعقاد کرتے آئے ہیں ابو سعید مظفر بہت ہی نیک پارسا ، متقی اور سچے عاشق رسول ﷺ تھے اور ہر سال محفل میلاد ﷺ کا دھوم دھام سے اہتمام کرتے تھے حافظ ابنِ کثیر لکھتے ہیں 

''بزرگ اور نیک بادشاہوں اور عظیم و فیاض سرداروں میں سے ایک شخص ابو سعید مظفر بادشاہ تھے وہ ہر سال بارہ ربیع الاول کو حضور نبی کویم ﷺ کا میلاد مناتے تھے اور اس کے ساتھ وہ بہت بہادر ، زیرک اور مدبر ، پرہیزگار عالم دین بھی تھے (البدائیہ والنھایہ ) 

جشن عید میلاد النبی ﷺ کے بارے میں آئمہ و محدثین کے عقائد 

امام ابنِ جزری رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ 

امام ابنِ جزری نے فرمایا کہ ابو لہب جیسے کافر کو حضور نبی کریم ﷺ کا میلاد منانے کی وجہ سے جزا دی گئی حالانکہ قرآن شریف میں اس کی مذمت میں اللہ رب العزت نے پوری سورۃ نازل فرمائی ہے تو حضور نبی کریم ﷺ کے اس اُمتی کا کیا حال ہو گا جو اپنے نبی کریم ﷺ کا اپنی قدرت و طاقت کے مطابق جشن ولادت مناتا ہے مجھے اپنی عمر کی قسم کہ اللہ کی طرف سے اس اُمتی جو ولادت مصطفیٰ ﷺ مناتا ہے کیلئے یہی جزا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل عظیم اور جنت نعیم میں داخل فرمائے (مواہب الدنیہ جلد اول ) 

امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ 

حضور نبی کریم ﷺ کے یوم ولادت کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے محفل میلاد مناتے چلے آئے ہیں اور اس مسرت موقع پر کھانے پکاتے رہے ہیں اور شبِ ولادت میں مختلف قسم کی خیرات وغیرہ کرتے رہے ہیں اور سرور و خوشی کرتے رہے ہیں اور نیک کاموں میں ہمیشہ زیادتی کرتے رہے ہیں اور حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت کریمہ کے موقع پر قرآت کا اہتمام کرتے چلے آئے ہیں اس جشن ولادت سے ان پر اللہ کا خاص فضل نازل ہوتا آیا ہے اور اس کے خواص سے یہ امر مجرب ہے کہ انعقاد محفل میلاد اس سال موجب امن و امان ہوتا ہے اور ہر مقصود و مراد پانے کے لیے جلدی آنے والی خوش خبری ہوتی ہے اللہ اس شخص پر رحمتیں فرمائے جس نے ماہ میلاد مبارک کی ہر رات کو عید بنا لیا تاکہ یہ عید میلاد اس شخص پر سخت ترین علت و مصیبت بن جائے جس کے دل میں مرض و عناد ہے (مواہب الدنیہ جلد اول ) 

علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ 

امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک مستحب و افضل ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے '' 

ابنِ حجر ھیتمی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ 

''تحقیق ابنِ حجر ھیتمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بدعت حسنہ کے مندوب (مستحب )ہونے پر سب متفق ہیں اور مولود پاک کرنا اور اس کے لیے لوگوں کا اجتماع کرنا بھی اس طرح بدعت حسنہ ہے یعنی اچھا طریقہ ہے (تفسیر روح البیان ) 

امام جلال الدین السیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ 

امام جلال الدین السیو